قومی خبریں

دہشتگردی کے خلاف جنگ: آءِ ایس آءِ اور رینجرس کی اصلیت سامنے آ گئی

جیو نیوز کی ایک خبر کے مطابق کراچی ماڑی پور مبارک ولیج میں کارروائی کے دوران ایک ‘را’ سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد  کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور اس کے پاس سے 15 کلو وزنی بم بھی برامد کیا گیا ہے۔

لیکں کیا واقعی جو دعواے کیئے جا رہے ہیں وہ درست ہیں؟ کیا واقعی گرفتار شخص کا تعلق ‘را’ سے ہے؟

دراصل گرفتار نوجواں کوئی دہشگرد نہیں بلکہ سندھ قوم پرست تنظیم جسمم کے کارکں عرفاں جمالی ہیں اور اس کو ماڑی پور کراچی سے چھاپے کے دوران گرفتار نہیں کیا گیا، اس نوجواں کو تو حیدرآباد سے 2 جوں کو اپنے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ہم آپ کے ساتھ سندھ کی مقبول اخبار کاوش کی ایک نیوز شیئر کر رہیں ہیں جو کہ 10 جوں کو شایع ہوئی تھی، اس میں صاف لکھا گیا ہے کہ عرفاں جمالی نام کے کارکں کو گرفتاری کے بعد گم کردیا گیا ہے۔

Daily Kawish

کاوش کی خبر دیکھیں

اسے کے عالمی شہرت یافتا انسانی حقوق کی تنظیم ایشیں ہیومں رائیٹس کمیشن نے ایک انرجنٹ اپیل شائع کی، اس میں بھی واضع دیکھا جا سکتا ہے عرفاں جمالی کے گمشدگی کا بھی نوٹیس لیا گیا ہے۔

AHRC

ایشیں ہیومں رائیٹس کی اپیل دیکھیں

عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کے ایک رپورٹ میں بھی واضع طور کہا گیا کہ عرفاں جمالی کو گرفتاری کے بعد گم کردیا گیا ہے۔

JSMM’s Raja Dahir Abducted – BBC URDU from Indus Tribune on Vimeo.

اب ریاستی ادارے ایک ایسے نوجواں کو دہشتگرد کہہ رہے ہیں جیسے رات کو اپنے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے پاس بم تو کیا ایک پسٹل تک نا ملا، اور ریاستی ادارے جھوٹ کا سہارا لیکر اس معصوم کو ‘را’ کا ایجنٹ کہہ رہے ہیں اور دعوا کر رہے ہیں کے اس کے پاس سے 15 کلو وزنی بم ملا ہے۔

ریاستی اداروں کی جانب سے ایسے دعوائوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ یہاں پر اکثر بیگناھ نوجواںوں کو ‘را’ کا ایجنٹ کہ کر قید کیا جاتا ہے یا پھر انہیں مار دیا جاتا ہے۔ اصل میں یہ جنگ ‘را’ کے خلاف نہیں بلکہ ان لوگوں کے خلاف ہے جو پاکستانی اداروں کو پسند نہیں۔