بلوچستان

بلوچستاں: سرینڈر کرنے والے سرمچار نہیں بلکہ جھاڑو پوچی لگانے والے ملازم ہیں: جسمم

Balochistan surrender

کل بلوچ سرمچاروں کی جانب سے ہتھیار ڈالنے والی خبروں کو جسمم نے سرکاری سرداروں کی سازش قرار دیا ہے۔ اس سے متعلق جسمم کا سوشل میڈیا پر موقف سامنے آیا ہے کہ  نام نہاد ریاستی دلال سرداروں کی طرف سے اپنے محافظوں، جہاڑو پوچی لگانے والے افراد سے انگریز دورِ حکومت کی بندوقیں جمع کروانے کا ڈرامہ لوگ بخوبی سمجھتے ہیں۔

اپنے موقف میں جسمم نے بلوچستاں کی حکومت کی کمزوری کا ذکر رکتے ہوئے کہا کہ بلوچ سرمچاروں کی مزاحمت سے معذوت اور لولی لنگڑی مفلوج حکومت اس وقت فراری سرینڈر کا یہ حربہ نفسیاتی جنگ میں جیت حاصل کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔

جسمم کے موقف میں کہا گیا کہ اس عمل کا مقصد پیٹ سے پتھر باندھ کر سرزمیں بلوچستاں کی خاطر لڑنے والے سارمچاروں کو نیچا دیکھانے کی سرکاری کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔

اپنے موقف میں جسمم نے مزید واضع کیا کہ فکری رہبر بلوچستاں نواب خیر بخش خاں مری اور نواب اکبر خاں بگٹی کی تعلیمات سے سرشار بلوچ نوجواں ہمیشہ ثابت قدم رہیں گے۔ ایسی سرکاری سرداروں کے سازشوں سے ان کے ارادے کمزور نہیں کیئے جاسکتے۔

جسمم نے بلوچ سرمچاروں کی اخلاقی سیاسی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نواب مہراں خاں مری، نواب برھمداغ خاں بگٹی، بلوچ رہنما حیربیار مری اور ڈاکٹر اللہ نظر اور انکی ساتھیوں کی جدوجہد کی سیاسی اور اخلاقی حمایت کرتی ہے۔