ادریہ

یہ ہمارے راجا ڈاہر تو نہیں

راجا ڈاہر سندھ کی آزادی، انصاف اور رواداری کے علمبردار مانے جاتے ہیں۔ راجا داہر آزاد سندھ کے حکمراں تھے جنہیں محمد بن قاسم نے شکست دے کر سندھ کو 712ع میں فتح کیا تھا۔

ہر محب وطن کے ساتھ جو رویہ سامراج کا رہا ہے اس رویہ کا شکار راجا ڈاہر بھی ہوئے۔ ان کے لیئے مشہور کیا گیا کہ اس نے اپنے بہن سے شادی کی وغیرہ ، لیکں اب سندھ میں اسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جو راجا ڈاہر کو سندھ کے امن پسند حکمران اور اپنا ہیرو مانتے ہیں۔

راجا ڈاہر کی برسی کے حولے سے اب تک کافی تضاد پایا جاتا ہے لیکں 21 جوں اور 2 جولا  کو راجا ڈاہر کی برسی الگ الگ منائی جاتی ہے۔

کیئی سال پرانی شہادت پر تضاد ہونا ایک فطری بات ہے لیکں اب یہ معلوم کیا گیا ہے کہ برسوں سے ہم جسے راجا ڈاہر مانتے ہین وہ دراصل راجا ڈاہر کی تصور نہیں لیکں کشمیر کے ایک سکھ حکمران کی تصویر ہے جو 18 ڈسمبر 1875 کو بنائی گئی تھی۔

اب تک تو ہمارے پاس راجا ڈاہر کی ایک ہی تصویر موجود تھی۔ جو ہم نے پچھلے سال انڈس ٹربیوں کے اداریہ میں بھی شایع کی تھی۔

RajaDahir_400x400

لیکں اب اس راجا کی ایک مزید تصویر بھی سامنے آئی ہے جو اس سے پہلے کہیں پر شیئر نہیں کی گئی تھئ۔

jammukashmir1877

ان دونوں تصاویر پر سندھیوں کے ‘سوا ہلٹن رائل کلیکشن’ کا بھی دعوا ہے اور  ان تصاویر کے تمام حقوق بھی ان کے پاس محفوظ ہیں اور ان تصاویر کو بغیر اجازت کے اپنی ویب سائیٹ یا نیوز پیپر میں دینا بھی قانوناََ جرم ہے۔

دراصل یہ تصاویر انڈیا کے ایک پرانے فوٹوگرافی ہاوس ‘بونیں او ر شیفرڈ’ میں موجود ہیں، لیکں انٹرنیٹ پر ان تصاویر کے حقوق ‘  ہلٹن رائل کلیکشن’ کے پاس بھی ہیں۔

کشمیر کے مہاراجا رنبیر سنگھ کی تصویر اوپر دی گئی ہے ان کے باپ گلاب سنگھ کی تصویر بھی نیچے دی جارہی ہے اس تصویر میں واضع دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کا لباس اور ہلیا ملتا جلتا ہے اور یہ کہنے میں کوئی دکت نہیں ہوگی کہ یہ تصویر راجا ڈاہر کی نہیں بلکہ مہاراجا رنبیر سنگھ کی ہے۔

photo

 یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جسے ہم اپنے راجا ڈاہر مانتے ہیں؟ وہی ہمارے راجا ڈاہر ہیں؟ یا ہم کسی اور کے تصاویر پر پھول چڑھاتے رہے ہیں؟ اگر یہ راجا ڈاہر نہیں تو ہمارے راجا کی تصویر کہاں سے آئے؟