انسانی حقوق

راجہ داہر بھی قتل کردیئے گئے

جسمم رہنما راجہ داہر
جسمم رہنما راجہ داہر

ہر کیسی پر جیئی سندھ کی سیاست ممنوع ہے۔ ہم تو کہتے ہیں یہ گریٹر پنجاب ہے پاکستاں نہیں۔ پنجاب کو  سندھی نہیں چاہیئں لیکں ہماری قدرتی وسائل چاہیئں۔  بدھ دس جوں کی سیربیں میں گفتگو کرتے ہوئے راجا داہر کے والد اور کیئی کتابوں کے منصف عطا محمد بنھبرو کا مزید کہنا تھا کہ   میرا بیٹا مجرم نہیں  ہے۔ میں دیش بھگت ہوں اور میرا بیٹا بھی دیش بھگت ہے۔

چار جوں کی رات کو گاؤں بچل بنھبرو کا محاصرا کرکے جسمم کے مرکزی رہنما راجہ  داہرکو حرست میں لینے کے بعد گم کردیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں کورٹ میں پٹیشں بھی زیر سماعت تھی۔

جسمم اور راجہ داہر کے ورثہ نے مسلسل احتجاج جاری رکھے اور جب عید کے دن راجہ داہر کی اہلیہ تہمینا حیدرآباد پریس کلب میں اپنے بچوں کے ساتھ راجہ داہر کی بازیابی کے لیئے احتجاج کر رہی تھی اسے معلوم نہ تھا کہ راجہ  داہر قتل کردیئے گئے ہیں اور ان لاش پاس میں ہی بنے ایدھی کے سردخانے میں موجود ہے۔

راجا داہر کی لاش 4 جولاءِ  کو پولیس کو نوری آباد کے قریب سے ملی تھی، یہ وہی علائقا ہے جو ایجنسیاں ‘کِل اور ڈنپ’ پالیسی  کے لیئے اکثر استعمال کرتی رہی ہیں۔

راجا  داہر تو ایک 20 دں پہلے قتل کردیئے گئے تھے لیکں ان کے قتل کی خبراس وقت سامنے آئی جب جسمم نے ‘سندھ مانگتی ہے آزادی’ اجتماع  کے لیئے باقاعدہ مہم شروع کرنے کا اعلاں کیا۔ تاہم اب جسمم نے 30 آگسٹ کو ہونے والی ‘سندھ مانگتی ہے آزادی’ اجتماع کو ملتوی کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

اب راجہ داہر کی لاش ایدھی سینٹر میں موجود ہے اور کہا جا رہا ہے کل اسے اپنے آبائی گاؤں میں سپردخاک کردیا جائے گا۔