مضامیں

حسن ناصر سے راجہ ڈاہر بھنبھرو تک: حسن مجتبی

Hassan mujtaba
حسن مجتبی

حبیب جالب نے حسن ناصر کی شاہی قلعے میں حوالاتی موت پر لکھا تھا
قلعہ لاہور تیرا اور قیدی مر گیا
تھم گیا شور سلاسل رک گئی زنجیر پا۔
مجھے یہ تب یاد آیا جب ایک اور نوجوان غائب شدہ سندھی قومپرست قیدی راجہ ڈاہر جسے بمشکل ایک ماہ قبل ریاستی ادارے کے لوگ اٹھا کر لے گۓ تھے پورے تیس دن بعد اسکی لاش برآمد ہوئی ۔ راجہ ڈاہر کے سر میں دو گولیاں تھیں۔
اس سرد لاش کا سفر نوری آباد سپر ہائی وے تھا۔ سر میں دو گولیاں۔ یہی سر میں دو گولیاں اس سے قبل دسمبر میں اسی علاقے میں برآمد شدہ ایک اور غائب شدہ نوجوان سرویچ پیرزادہ کے سر میں بھی دو گولیاں لگی تھیں۔
مجھے بائئس سالہ سرویچ پیرزادہ کے والد لطف پیرزادہ نے بتایا تھا کہ اسکے بیٹے کی جسد صیحح سلامت تھی۔ فقط دونوں ہاتھ سفید تھے جنکی ساری رگيں نظر آرہی رہی تھیں جس سے لگتا تھا کہ اسے بجلی کے جھٹکے دیے گۓ تھے۔ اور سرویچ کے کان کے نیچے کنپٹی پر دو گولیوں کے سوراخ تھے جس سے خون رس رہا تھا اور اسکے مارنے والوں نے دو گولیوں سے کۓ گۓ اسکی کنپٹی کے سوراخوں میں کپاس دی ہوئی تھی۔
سرویچ کو اپنی تحویل میں قتل کرنے والے اسپر مہربان تھے اسے نئے کپڑے پہنائے گۓ تھے۔ اس کا باپ لطف پیرزادہ مجھے بتا رہا تھا سرویچ کو وہ کپڑے پہنے ہوئے نہیں تھے جو گمشدگی کے وقت پہنے ہوئے تھا ۔ اس نے نئی شرٹ اور نئی جینز پہنی ہوئی تھی۔ سرویچ کراچی میں ایک کوریئیر کمپنی میں ملازم تھا ۔ وہ صدر میں اپنے دفتر کے پارسل لے کر موٹر سائکیل پر گیا پھر لوٹ کر نہ آیا۔ اسکی موٹر سائیکل اور سیل فون بھی ابتک غائب ہیں۔
گم کر کر۔ گم کرکے مارنے والے تاریخ سے کوئی سبق نہ سیکھتے ہوئے بھی اتنے بے بہرہ ور نہیں۔ راجہ ڈاہر کو قتل کرنے یا اسکی لاش کی برآمدگی کا دن پانچ جولائی رکھا گیا۔ پانچ جولائی کے دن اسکی لاش سپر ہائی وے پر نوری آباد کے صنعتی علاقے کے قریبی گآئوں کاٹھ پالاری سے ملی۔ کیا سندہ کے لوگوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ آپکے لیے پانچ جولائی کبھی نہیں جاتی۔پانچ جولائي جس دس اس ملک پر ضیاء آمر کا سایہ پڑا تھا۔
شاہ لطیف بٹھائی کے کلام کے حافظ اور ہاری حقوق کی تحریک سے ماضی میں وابستہ بائیں بازو کا یہ مولائي سابق کارکن لطف پیرزادو کو بھی ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ مارشل لائوں میں بھی نوجوانوں کو اس طرح گھروں سے غائب کر کر قتل کردیا گیا ہو۔ اسے بس اس سے قبل کی حسن ناصر اور نذیر عباسی کے ریاستی اداروں کے تحویلات میں قتل یاد تھے۔
لیکن سرویچ پیرزادو کی اماں مہر خاتون نے سب کچھ خدا پر چھوڑ ا ہوا ہے۔
“ہم غریب مائوں کا سیاست سے کیا” وہ کہتی تھی۔
سرویچ پیرزادو کو امریکہ پر دہشتگردانہ حملوں کی برسی والی دن گیارہ ستمبر کو کراچی سے گرفتار کر کر غائب کردیا گیا۔ وسط دسمبر میں اسکی لاش ملی جب سندہ کے مختلف علاقوں سے ایک ہفتے میں سات لاشیں ملیں۔
اور اب پانچ جولائی کو راجہ ڈاہر بھنبھرو کی لاش۔ راجہ ڈاہر بنھبھرو کو مقامی نوری آباد کی پولیس نے اسکے انگلیوں کے نشانات لیکر لاوارث اور غیر شناخت شدہ لاش کی طور پر ایدھی سینٹر حیدرآباد کے حوالے کیا ۔ جنہوں نے بھی اسے لاوارث لاش کی طور پر امانتن ٹنڈو یوسف کے ایدھی کے قبرستان میں دفن کردیا۔ جی ہاں ایدھی نہ ہوتا تو یہ سارا ملک ایک تعفن شدہ لاش کی طرح بدبو کرجاتا۔ ایدھی اور اسکے رضاکاروں نے جتنی ریاستی اور غیر ریاستی تشدد شدہ لاشیں دیکھی اور دفنائی ہیں وہ ایک پوری تاریخ ہے۔ پھر ایدھی کو ان لاشوں پر دفنانے اور منہ کھولنے کی ایک دفعہ یا کئي دفعہ سزا بھی مل چکی ہے۔ نذیر عباسی سے لیکر میری بہن ڈاکٹر فوزیہ بھٹو تک اور ایم کیو ایم کے کارکنوں سے لیکر سندھی قومپرست راجہ ڈاہر بھنبھرو کتنی تشدد شدہ لاشیں وصول کی اور دفنائی ہیں۔
سارہ شہر ہے مردہ خانہ کون اس راز کو جانے گا
ہم سارے لاوارث لاشیں کون ہمیں پہچانے گا۔(احمد فراز)
راجہ ڈاہر کی لاش اسکی برآمدگی کے بیس دن بعد نادرا کی ڈیٹابیس کی مدد سے اسکی انگلیوں کے نشانات سے پہچانی گئی۔ لیکن قاتلوں کی شناخت کون کرے۔ سب جانتے ہیں کہ کون ہیں۔ یہ مارورائے آئین و عدالت قاتل۔
اسکی تینوں کمسن بیٹیاں عید الفطر والے روز بھی اپنی ماں سمیت پریس کلب حیدرآباد کے فوٹ پاتھ پر بیٹھی تھیں۔
کیونکہ راجہ ڈاہر کو پچیس ریاستی سرکاری موبائیلوں اور وردی اور بے وردی لوگوں نے اسکے گائوں بچل بھنبھرو کا گھیرائو کر کے گھر گھر تلاشی کے بعد اسکے گھر پر چھاپے سے اسے راجہ ڈاہر شناخت کر کے لے گۓ۔ گوٹھ بچل بھنبھرو کے سینکڑوں مردوں،عورتوں اور بچوں نے یہ وقوعہ دیکھا۔ یہ پولیس والے بھی نہیں تھے۔ کیا یہ محمد بن قاسم کا لشکر تھا جو راجہ ڈاہر نام کے اس سیاسی کارکن کو اپنے ساتھ لے گیا! گوٹھ بچل بھنبھرو گائوں پاکستان میں سندہ صوبے کا ایک گائوں ہے پڑہے لکھے لوگوں کا گائوں۔ جیسے پاکستان کے ایسے دوسرے گائوں ہوتے ہیں، جیسے چک جھمری، پنڈ دادن خان ، چوہا سیدن شاہ یا جہلم گجرات کے باقی گائوں۔ یا چک دو یا چک تین رینالہ خورد۔ ان موضوعوں کی مائوں! اپنے بیٹوں سے کہو کہ سندہ کے بیٹوں کو قتل مت کرو۔ اگر وہ ملزم ہیں تو انکو عدالتوں میں پیش کرو۔ یا پھر جوانوں مانو کہ آپ نے انکو اٹھایا ہے یہ منک دشمن ہیں۔ لیکن ثابیتاں تو لائو۔ جیسے ایم کیو ایم کے کارکنوں سے “بلواتے” ہو ان سے بھی تو بلوائو نہ۔ انکو مارو تو نہیں۔
بہت سے لوگوں کو سندہ میں یہ خدشہ تھا خود کو محمد بن قاسم سمجھنے والے راجہ ڈاہر کو زندہ شاید ہی چھوڑيں گے۔
اب بھی کوئی پانچ چھ کے قریب سندھی نوجوان ہیں جو مہینوں برسوں سے غائب ہے۔ زندہ ہیں بھی کہ نہیں! یہ سب کے سب بیس بائیس برس کی عمروں کے ہیں۔ ان میں بائيس برس کا انجنیئرنگ کا طالب علم کملیش کمار بھی ہے جو چھبیس نومبر کو امتحان کے نوٹس کی فوٹو کاپی کروانے گیا تھا کہ جامشورو سے غائب کردیا گیا۔
لیکن راجہ ڈاہر کو اسکی گمشدگی کے تیس دن بعد اس کے سر میں دو گولیاں مارکر لاش پیھنک دی گئی۔ قانون راجہ ڈاہر بھنبھرو کی زندہ واپسی کو مدد کو نہیں آیا۔ شاید بڑے بڑے ستاروں اور ٹوپیوں والوں کے سامنے قانون بھی نظر بٹو کا کردار ادا کرتا ہے۔ مردہ راجہ ڈاہر کی لاوارث لاش کی قبر سے کھودائی ، شناخت اور پھر قبر سے کھودائی تک برابر کاغذی خانہ پری کرتا نذر آیا ۔ سندہ کے وزیر اعلی کے شہر کی یہ جانی پہچانی بھنبھرو فیملی کے ایک چشم چراغ کو منتخب سندھی حکمران بھی بچانے میں ناکام رہے۔ آئين کے رو سے زندگی کا تحفظ ہر پاکستانی شہری کا حق تھا۔ اور یہ بھی کہ ملک کے بانی نے جو کہا کہ “کسی بھی شہری کو عدالت قانون میں پیش کیے بغیر ایک سیکنڈ کیلے بھی نہ تو گرفتار کیا جا سکتا ہے اور نہ نظربند۔”
ریاستی ڈبل کیبن سفید کالے شیشوں والی ٹویوٹائوں پر چڑہے اجل کے گھوڑے سوار کچھ بھی کریں اور کہیں لیکن سندھی اخبارات نے راجہ ڈاہر کو “شہید” لکھا ۔سندھی میڈیا ڈاکوئوں اور دہشتگردوں کے ہاتھوں مارے گۓ وردی اور بے وردی لوگوں کو بھی “شہید” لکھا کرتی ہے۔ راجہ ڈاہر کے والد نے تعزیتیں وصول کرنے سے انکار کیا کہ وہ کہتے ہیں انکا بیٹا سندہ وطن کیلیے مارا گیا ہے۔
جانے والے سپاہی سے پوچھو کہ وہ کہاں جا رہا ہے؟ تمہاری “کل اور ڈمپ قومی پالیسی” کا کیا بننے جارہا ہے۔ آپکے پاس توبجرنگی بھائی جان جتنا بھی آيئڈیا نہیں جو دشمن ملک کی بیٹی کو اپنے ماں باپ سے ملوانے نکل پڑتا ہے ۔ آپ تو اپنے ملک کے بچے غائب کر رہے ہیں۔ کیا سندہ منک کا حصہ نہیں ہے! کیا آپ پورے سندہ کے آنکھوں پر کالی ٹوپی پہنائیں گے؟