مضامیں

پنجابی قوم کے فاشسٹ قوم ہونے کے بنیادی کجھ اسباب: شفيع برفت

پہلا سبب: .پنجاب اپنی جاگرافیا کے اس حصے میں وقه پذیر ہے جہاں ہر حملہ آوار نے جب بھی برصغیر پر حملہ کیا یا دہلی پر حملہ کرنے کے لئے جب بھی حملہ اور ہندستان کا رخ کرتے تھے تو وہ پہلے پنجاب میں جاتے تھے اور ان کو اپنا غلام بناکر ان کی تذلیل کی جاتی تھی جس تذلیل کو بار بار دیکھتے دیکھتے پنجابی خود بھی ظالم فاشسٹ قوم ہوگئے.
دوسرا سبب: پنجاب کی اکثریت مسلمانوں کی تھی جب کے پنجاب کے حکمران رنجیت سنگھ کیوں کے مسلمان نہیں تھے اس لئے حکمران غیر مسلم ہونے کی وجہ سے عام پنجابیوں کو نفسیاتی ذلت غلامی کا احساس ہوتا تھا جو آہستے آہستے پنجابی قوم کے اندر مجموئی فاشزم بے رحمی کا رجحان پیدا کرنے کا سبب بنگیا.
تیسرا سبب:جب انگریزوں نے برصغیر پر قبضہ کیا تو اس کے بعد پنجابی مسلمانوں کی جان رنجیت سنگھ سے چھوٹی اور پنجابی مسلمانوں نے دوبارہ سکھوں کی غلامی سے ھمیشہ کے لئے جان چڑانے کا یہ حل نکالا کے پنجابی مسلمان انگریزوں کی دلالی چاپلوسی کرنے لگے اور انگریزوں کے لئے فوجی خدمات کرنے لگے نتیجے میں جب تک انگریز برصغیر پر قابض تھے پنجابی فوج کی حیثیت سے ( پنجابیوں نے ) انگریزوں کے دلال چاپلوس بن کر کام کرتے رہے اور غیرت مند سندھیوں ( حر تحریک ) پشتونوں، بلوچوں، سمیت برصغیر کی جتنی بھی قومیں انگریزوں کے خلاف بغاوت کرتی تھیں ان کے خلاف پنجابی مسلمانوں ( فوج ) نے انگریزوں کے انتہائے وفادار کا کردار ادا کیا تھا جس سے پنجابیوں کو رعایتیں بھی ملیں اور فوجی طاقت بھی ملی وہ پنجابی فوج ہر ایک قوم کے ساتھ انگریز کے بل بوتے پر لڑتے لڑتے فاشسٹ بنگی .
چوتھا سبب: جب پاکستان بنا جو انگریزوں نے پنجاب کو انگریزوں کی دلالی کرنے کے لئے ایک تحفے کے طور بنا کر دیا تھا ( بقول پنجابی دانشور سر سکندر حیات ) جس کے بعد پنجابیوں کو یہ احساس ہوا کے ان کی آبادی زیادہ اور وسائل کم ہیں اس لئے اگر پاکستان کو قائم رکھنا ہے جو پنجاب کے سیاسی معاشی مفادات کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ تھا، کیوں کے پنجابی ایک لینڈ لاک نیشن بھی ہیں، اس لئے پنجاب نے سوچا کے سواۓ فوجی طاقت، قبضے، جارحیت اور دہشت کے پاکستان کو قائم نہیں رکھا جاسکتا ہے، اس لئے پنجابی فوج کو بنگالیوں کے ساتھ بھی فاشزم کا طریقہ اختیار کرنا پڑا ( تیس لاکھ مسلمان بنگالیوں کا انتہائی بربریت اور سفاکیت کے ساتھ قتل عام کیا گیاتھا ) کیوں کے بنگال کی آبادی پنجابیوں سے بھی زیادہ تھی جو پاکستان کے وسائل دولت سے اپنا حصہ مانگتے، جو بات پنجاب کے مفادات کے خلاف تھی اس لئے بنگالیوں کو پنجابیوں نے بدترین فاشزم کے ذریے الگ کردیا اور باکی سارے پاکستان کو فوجی بدمعاشی فاشزم اور اسلام کے نفسیاتی ہتھیار سے مظلوم قوموں کو غلام بنایا ہوا ہے، اس ( پاکستان کے ) قبضے کو برقرار رکھنے کے لئے بھی ضروری تھا کے پنجابی قوم فاشسٹ بنے .
پانچواں سبب: جب پوری دنیا دو بلاکس میں بٹی ہوئی تھی سوشلسٹ اور کیپٹلسٹ بلاک میں اس وقت کیپٹلسٹ بلاک کو خطے میں ایک کراۓ کی فوج کی ضرورت تھی جس کے لئے پنجابی فوجی ہر وقت تیار تھے جن کو روس کے خلاف لڑایا گیا تھا اور اب پنجابی چین کے لئے استعمال ہورہے ہیں سپیک کی صورت میں، مگر سرد جنگ کی واضح سے اس وقت کے انٹرنیشنل حالت کی وجہ سے پنجابی فوج کی عالمی قوتوں کو ضرورت تھی اس لئے پنجابی فوج کو دنیا کے بڑے ملکوں نے اپنی ضرورت کے لئے پالا پوسا اور پاکستان کی سیاست سے زیادہ اہمیت دی جس کی وجہ سے وہ فاشسٹ بنگی اور ان کے فاشزم کا کیوں کے اپنی قوم کے خلاف کوئی منفی اثر یا استعمال نہیں تھا اس لئے پنجابی سماج اس فاشزم کی وجہ سے خود بھی فاشسٹ سوچ کا حامی ہوگیا.
چھٹا سبب: کیوں پنجابیوں کو پاکستان کے جبری قبضے کو برقرار رکھنے کے لئے ایک نام نہاد نقلی اسلامی نظریے کی ضرورت تھی، جس کے لئے مسلمان قوم کے نام نہاد چھان سے میں ایک طرف سندھی، بلوچ، پشتون فاٹا وزیرستان کشمیر کو مذھب کے نام پر غلام بنایا گیا، دوسری طرف ہندستان کو ہندو دشمنی، نفرت کے بنیاد کی ان ضرورت تھی، کیوں کے یہ خود کو مسلمان قوم کے دھوکے میں مظلوم قوموں کا استحصال لوٹ مار کرنے اور ہندو دشمنی کے بنیاد پر ایک بڑی فوج کی پنجاب کو ضرورت تھی اور ایک ایسی فوج جس کا بنیاد ہی استحصال لٹ مار اور مظلوم قوموں پر قبضے اور پڑوسیوں کے خلاف نفرت پر رکھی گئی تھی اس لئے ان کو فاشسٹ ہونا لازمی تھا.

وہ ہی بنیادی سبب ہے کے پنجاب کی ساری آبادی، پنجابی فوج کے اس فاشزم کے باوجود، اپنی ظالم سفاک، فاشسٹ فوج کو آج تک اپنا ہیرو مانتی ہے، کیوں کے فوج ہی پورے پنجاب کو اس فاشزم، قبضے، سفاکی اور مظلوم قوموں کا سیاسی معاشی استحصال اور لٹ مار کرکے کہلاتی ہے، پنجاب کی بقا دوسری قوموں پر قبضے تسلط پر ہے، کیوں کے پنجاب کے وسائل تھوڑے ہیں، پنجاب کو اپنا سمندر بھی نہیں ہے، یہ ہی وہ سارے سیاسی، معاشی، تاریخی، نفسیاتی اسباب ہیں، جس کی وجھ سے پنجابی قوم ایک فاشسٹ، ظالم، جابر، سفاک قوم ہیں جن سے کسی طرح کی بھی نیکی، انسانیت اور مثبت سوچ کی امید نہیں کی جاسکتی، باوجود اس کے، ہم پنجابی قوم سے نہیں، مگر کجھ افراد سے یہ امید کرسکتے ہیں، کے وہ اپنی قومی فاشسٹ فوج اور سوچ کے خلاف ہوسکتا ہے کے مظلوم قوموں کی آزادی کی حمایت کر بیٹھیں.