مضامیں

پاک چیں اقتصادی راہداری: سندھ اور خطے پر پڑنے والے اثرات: شفیع برفت

سندھ قرہ عرض پر واقع ایک تاریخی و د لفریب تہذیب رہتی آئی ہے، وادی سندھ کی وہ تہذیب جہاں آج بھی موئن جو دڑو جیسا دراز عمر شہر اپنے پورے جوہر کے ساتھ ساکن کھڑا ہے۔ انسانی تاریخ میں تہذیب و ثقافت کی کوکھ مثل ، دنیا کی پہلی جمہوری شہری ریاست، جہاں سے تجارت، جہاز رانی اور قانون سازی پھوٹ نکلے۔ جبکہ موسیٰ کے ۱۰ احکامات اور حمورابی کے قوانین کو بھی قدیم سندھو کی ویدک تعلیمات سے اخز کیا گیا ہے۔ سندھ شومہراج اور شکتی دیوی کے فلسفے کی وہ سرزمین ہے جہاں سے انسان کی تہذیبی و ارتقائی قدیم تاریخ کے حوالے لئے جاسکتے ہیں، جہاں کے عقل و فہم، تہذیب و ثقافت اور علوم و فنون سے دنیا بخوبی روشناس ہے۔ آج جسکی ٓزادی بزور طاقت جاگرافیائی ، اقتصادی اور سیاسی طرح سلب کی گئی ہے، جسے بدقسمتی سے جہالت، سماجی بے راہ روی، بے حیائی اور مذہبی انتہاپسندی سے دوچار کیاگیا ہے۔ جہاں بیچاری مذہبی اقلیتوں جیسے سندھی ہندو، شیعا ، عیسائی اور احمدیوں کو شدید ظلم و زیادتی اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مظلوم سندھی اور بلوچ اقوام کو قابل رحم حالات میں روزانہ ریاستی اداروں کی جارحیت اور درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بنیادی انسانی حقوق کی توہین، بے حرمتی اور حولناک پامالی کی بدترین شکل یہ ہے کہ کسی فطری تاریخی قوم کے لوگوں، وطن اور وسائل کو زبردستی قبضہ ، نسل کشی اور استحصال کا شکار بنایا جائے۔ یہ انسانی تاریخ میں سیاسی و معاشی تباہی اور انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے جسے فقط قومی نسل کشی سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔یہ آج کی سندھ کے حالات ہیں جس کی معاشی استقامت اور شعور و فہم کی بلندی ماضی میں بلند انسانی ہم آہنگی، باہمی مذھبی وجود اور تہذیبوں کی رہنما رہتی آئی ہے۔
سندھ کی تاریخی آزاد سرزمین کو غلامی کی زنجیروں میں انگریزوں کی صاحب طاقت بقا جایات، پنجابی آرمی نے ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو بنیادپرست ریاست پاکستان کے نام پر جکڑ لیا۔ بعذ از ، سندھ غلامی، ظلم و زیادتی، استحصال ، جارحیت اور پاکستان کے قبضے سے دوچار ہے۔ ایک قدیم آزاد سرزمین جس کی تاریخ و تہذیب قبل از تاریخ کے دور سے تعلق رکھتی ہے۔ اسے قومی شناخت، جاگرافیائی، سیاسی و معاشی اختیارات، اظہار و عمل کی آزادی، انسانی و قومی حقوق ، سماجی، ثقافتی اور مذہبی رسوم کی تکمیل،تعلیم ، صحت او جماعت سازی سے محروم کیا گیا ہے۔یہ دورحاضر ۲۱ ویں صدی کی سندھ کے حالات ہیں کہ جہاں آزادی پسند سیاسی کارکنان قانون نافذ کرنے والے اداروں کیجانب سے اغوا، جبری گمشدہ، مہینوں اور سالوں تک حراست، غیرانسانی تشدد، ماورائے عدالت قتل اور مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں پھنکے جاتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں پر بندش اور سیاسی لیڈروں کے سر کی قیمت لگا کر سیاسی کردار ادائگی سے باز رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ مثال طور، میری جماعت جسمم پر غیر قانونی بندش عائد کی گئی ہے۔
سندھ کے تعلیم کی حالت ناقابل فراموش حد تک خستہ ہے۔تعلیمی اداروں کو شعوری طرح کرپشن، بدانتظامی، بیروکریسی، فرسودہ نصاب، نااہل اساتذہ، کتابوں اور فنذ کی قلت سے دوچار کیا گیا ہے۔آفیسوں، اسکولوں ، کالیجوں اور یونیورسٹیوں کے ہاسٹلوں کی عمارت کو رینجرز جیسی پیراملٹری فورس کی مستقل کالونی کی شکل دی گئی ہے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اطراف دیوارو ں کی تعمیر اور خاردار تاروں کے نصب کرنے سے حراستی کیمپوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔ سندھی نوجوانوں، کو جدید فلسفے اور سائنسی تعلیمات کے حصول سے باز رکھنے اور مسلسل نفسیاتی دباوٗ، بیچارگی اور غیر یقینی صورتحال میں مبتلا رکھنے کیلئے پیراملٹری فورسز کو ہر صورت دستیاب کیا گیا ہے۔
ایک ایسی ریاست جسے ہم پر نظریاتی ، سیاسی اور اقتصادی طرح مذہبی شکل میں عائد کیا گیا اور زبردستی قبضہ انسانی و قومی، سیاسی و سماجی حقوق کے خلاف درندگانہ کردار ادا کررہا ہے۔میں آج دنیا کے آگے واضح طور پر اس سندھ کے حالات کو بیان کررہا ہوں جسے بے ضابطہ حالات میں مسلسل بے حرمتی اور انسانی حقوق کی پامالی کا شکار قیام پاکستان کے پہلے دن سے کیا جاتا رہا ہے اور مسلسل بدترین شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔جسکے پانی کو لوٹ کرپنجاب زرعی زمین کو بنجر اور ۷۰ فیصدی آبادی کو غربت کے لکیر تلے دبایا جارہا ہے۔ سندھ کی ماحولیات پر محلق اثرات مرتب کرکے، مقامی حیاتیات و نباتات کے سندھی نسلوں کا خاتمہ کیاجارہا ہے۔ ان تباہ کاریوں کی شدت کو مزید بڑھانے کیلئے دو اہم نالوں ایل۔بی۔او۔ڈی اور آر۔بی۔او۔ڈی، جو پنجاب سے صنعتی فضلہ مواد کے اخراج کیلئے تعمیر کئے گئے ہیں۔ جن سے مختلف امراض کے جراثیم کا پھیلنا اور ۲۰ لاکھ ایکڑ زمین کے بنجر ہوجانے جیسی تباہکاری معمول ہے۔
قدرتی وسائل سے مالامال سندھ کے معصوم بچے غیرموافق غذا، غربت اور بیماریوں سے اجل کا شکار ہیں۔ لاکھوں ایکڑوں پر مشتمل جنگلات کو فوج کے حوالے کرکے انکی مسلسل کٹائی درجہ حرارت میں شدید بڑحاوے کا باعث ہیں۔ دریاء سندھ کے مختلف مقامات پر سندھ کے تحفظات پر عدم دھیان ادائگی اور رائے کی پرواہ کئے بغیر ڈیم اور کینال تعمیر کئے گئے ہیں اور اب بھی کئے جارہے ہیں۔ ضلع بدین اور ٹھٹہ کی ہزاروں ایکڑ زمین سمندر کی بڑھتی سطح سے مسلسل کھارے پن کا شکار ہے کیونکہ سندھ طاس کے مقام پر دریاء سندھ کا پانی سمندر میں داخلے کیلئے ناکافی ہے اور پنجاب، دریا سندھ کے توسط پانی کو سمندر تک پہچانے پر رضامند نہیں۔
یہ اس سندھ کی کہانی ہے جو بنگال کی علیحدگی کے بعد پاکستان میں انضمام کی قیمت ادا کر رہی ہے جبکہ ان امراض اور کسمپرس حالات کی اصل جڑ پاکستان اور اسکا دو قومی مذہبی نظریہ ہے۔ جسے تاریخی طور پر سیکیولر اور جمہوری تاریخ کی حامل وادیء سندھ پر عائد کیا گیا ہے۔جسے آج انتہاپسندی کی آگ میں جھونکنے کیلئے مدرسوں کا وسیع پھندا پاکستانی ریاست کی مکمل حمایت و امداد سے تیار کیا گیا ہے جو کہ ہماری تاریخی روایات کے مکمل متعضاد ہے۔

جبکہ ریاست محلق جوہری جنگی ساز و سامان اور خام مال سندھ کے پہاڑی سلسے کی غاروں میں، سندھی عوام کی شدید مخالفت اور تحفظات کے باوجود زخیرہ کیا جارہا ہے۔ چنانچہ ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ پاکستان کو جوہری اثاثوں کے زخیرہ سے فوراٗروکا جائے۔

حالیہ وقت میں، بحیرہ عرب پر غلبے کی نیت سے پاکستان ، چائنہ کی شراکت کیلئے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کیلئے کوشاں ہے۔ جس منصوبے کے تحت سندھ کے ساحلی علاقہ جات میں میگاسٹی پراجیکٹ کی تعمیر سے مزید لاکھوں پناہگیروں کی آمد متوقع ہے جس سے مقامی سندھی آبادی کو اپنی ہی سرزمین پرواضح اقلیت میں تبدیل کردیا جائیگا۔ جو کہ خود انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے بلکہ یہ تو سندھ کے قومی مفادات کے خلاف کھلی ریاستی دھشتگردی ہے۔ جسکے خلاف آج ہم سندھ میں آواز بلند کررہے ہیں اور بیرون سندھ عالمی فورم پر بھی اظہار کرتے آئے ہیں، جبکہ معزز عالمی برادی سے اپیل کرتے ہیں کہ سندھ کے انسانی حقوق اور قومی حقوق کو لاحق سنگین حالات کا سنجیدہ نوٹس لیں۔

پاک چین اقتصادی راہداری : چائنہ کی خطے پر فوجی حکمت عملی سے جارحیت ، لامتناہی سیاسی و معاشی بیچینی کا محرک و مرکز، جنوبی ایشیا میں فوجی کشیدگی اور تصادم کا منصوبہ ہے۔

پاک چین اقتصادی راہداری اپنے حقیقی جوہر میں چین اور پنجاب کا ایسا سیاسی ، معاشی، فوجی اور اسٹریٹجک اتحاد ہے جس سے پورے خطے اور دنیا کو انتہائی خطرناک حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ چین ، پاکستان کی مدد سے اپنا فوجی غلبہ بحیرہ سندھ (عرب) پر کرنا چاہتا ہے بلکہ تجارت کے عالمی راستوں کی نگرانی اور چوکسی کا بھی راہ ہے ، جس تجارتی راستے کو یورپ، آفریکا اور عر ب دنیا اتجارت کیلے کارآمد لاتے ہیں۔

معاشی ترقی کے منصوبے سے زیادہ اقتصادی اور فوجی قبضے کیلئے، ایک طرف جنوبی اور مشرقی چائنہ کے سمندری خطے اور دوسری جانب کاشگر سے گوادر تک کے علاقے پر غالب آنے کیلئے چائنہ اب جارحانہ حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جسکی عالمی سطح پر مذمت کی جاچکی ہے۔ پنجاب کے سیاسی و فوجی پالیسی ساز اور فوجی اسٹبلشمنٹ آج اس بات سے بخوبی آشنا ہیں کہ اب طویل عرصے تک سندھ اور بلوچستان کو اپنی بیٹھکیت کے طور پر قائم نہیں رکھا جاسکتا ہے، کیونکہ آزادی پسند سندھی و بلوچ تحریکیں اندرونی علاقائی استقامت اور عالمی طور پر پذیرائی حاصل کررہے ہیں۔ اسی لئے پنجاب ، ایک لینڈ لاک قوم، جو کہ بلوچ اور سندھی آزادی پسند تحریکوں پر غالب آنے کیلئے سیاسی و فوجی طاقت میں کمزور ہو چکی ہے جسے اب نہ فقط سندھ اور بلوچستان کے وسائل بلکہ زمین اور سمندر بھی درکا ہیں۔ ایسی شکت خوردہ ناکام ریاست کی اسٹبلشمنٹ ( فوجی و سیاسی پالیسی ساز) نے اپنے ہاتھ چین کی طرف بڑھاکر ایف۔ڈی۔ آئی (براہ راست بیرونی سرمایہ کاری ) سے معاشی استقامت اور فوجی طاقت کا حصول یقینی بنایا ہے جس سے مظلوم و محکوم اقوام کو فوجی بربریت، خونریزی اور نسل کشی کا شکار کیا جائے۔ جوکہ بیک وقت جاری ہے۔ پاکستان کی ٖفاشسٹ فوج اور خفیہ ادارہ آئی ۔ ایس۔ آئی کی جانب سے سندھی اور بلوچ اقوام کے خلاف تاریخ کا بدترین فوجی آپریشن کیا جارہا ہے۔ سندھی عوام کے گھروں پر چھاپے، منصوبے کے مخالف ہر ایک کا سفایا، بلوچستان کے شہروں اور قصبوں پر بمباری، سیاسی کارکنان اور سول آبادی کو اغوا کرنا، ملٹری کے ٹارچر کیمپ اور سیل میں تشدد کرنا اور ماورائے عدالت قتل کرنا ریاست کی جانب سے معمول ہے۔

سینکڑوں سندھی سیاسی کارکنان کو رواں ہفتے اغوا کیا گیا ہے،جن میں صحافی ، دانشوران، مصنف، اساتذہ ، مزدور ،طلباء اور انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے کارکنان وغیرہ شامل ہیں۔

اس منظرنامے میں چین کا سیاسی کردار سامراجی اور مظلوم اقوام کے مفادات کے مخالف ہے۔ یہ چین کے ماہر اقتصادیات کی عظیم غلطی اور تنگ نظری ہوگی کہ وہ اپنی معیصشت ایک ایسے جہاز پر لاد رہے ہیں جو کہ پہلے ہی معدومیت کے سمندر میں ڈوبنے کے قریب ہے اور جسے ہر صورت سندھی اور بلوچ اقوام کی سیاسی مزاحمت کے آگے ہتھیار ڈالنا پڑینگے جس طرح ۱۹۷۱ء میں بنگال (مشرقی پاکستان) کے ہاتھوں رسوائی سے گھسیٹ کر بے دخل کئے گئے تھے۔ تو پھر چین کی معیشت کا کیا ہوگا؟ اسکے ساتھ ساتھ پاکستان جیسی فاشسٹ ریاست کے ہمراہ اقوام کو غلام کرنے کے جرم میں شراکت سے چائنہ کی اخلاقی اور قومی حیثیت اور ساکھ کا کیا ہوگا؟

آج یا کل، چین کے اقتصادی ماہران کو اس جانب ضرور غور کرنا پڑیگا کیونکہ جیئے سندھ متحدا محاذ (جسمم) اور سندھی عوام، چین، کے غلام قوموں کی سرزمیں پر اس جارحیت پسند اور قبضہ گیر منصوبے کی مخالفت میں علاقائی سیاسی محاذ آرائی اور عالمی سفارتکارفورمزپر آواز بلند کررہی ہیں۔

سی پیک کا بنیادی مقصد عرب، وسطی ایشیا اور آفریکی ملکوں سے خام تیل کے وافر مقدار کو بزریعہ زمینی رسد کے راستے گوادر اور کراچی کے بندرگاہوں سے چین تک براستہ کاشگر پہچانا ہے۔ یہ بات دھیان طلب ہے کہ کراچی کا ساحل، یورپ کے تجارتی سمندری راستے سے فقط ۱۲ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جس پر چین کی امداد یافتہ پاکستانی نگرانی ہر حال میں بے انتہا سیاسی اور عسکری بے چینی کا باعث بنے گی۔ اس سے انڈیا کو معاشی تناوٗ کا شکار کرنے کیلئے پاکستان کی ہتھیاربند مداخلت زمے دار ہوگی۔ اس بے چینی اور کشیدگی کا خاتمہ فقط پاکستان کی تباہی اور خاتمے سے ہی ممکن ہے۔

چنانچہ، پاک چین اقتصادی راہداری اور خطے میں چین کا معاشی و فوجی غلبہ مختلف خطوں اور عالمی انسانی عوارض بشمول بیٹھکی استحصال، خونریزی، نسل کشی، مظلوم اقوام کی مستقل غلامی اور خطے میں فوجی طاقتوں کی بگڑتے توازن کے پیشِ نظر غیر یقینی تبدیلی کی وجہ سے عالمی معاشی اور فوجی طاقتوں کے درمیان محاذ آرائی کیلئے میدان جنگ ثابت ہوگا۔ خطے میں علاقائی حدبندیوں پر تنازعات اور مسلح کشیدگی کو جنم دے گا۔

عالمی سیاسی ہم اہنگی اور امن کو تہ و بالہ کرے گا۔ غیر متوقع حد تک انسانی حقوق کی پامالی اور ریاستی تشدد بڑھتا جائے گا۔ سندھ اور بلوچستان کے سیاسی قومپرست آواز پر عائد پابندیوں اور ظلم و جبر (جوکہ حالیہ وقت میں بھی جاری ہے) ۔ چین اور پنجاب سامراج کا بنیاد پرست قوتوں کی مدد میں اضافہ جنھیں علیحدگی پسند تحریکوں کے خلاف استعمال کرنے سے سیکیولر اور جمہوری طاقتوں کو بھی عالمی سطح پر خطرہ لاحق ہوگا۔ پاکستان کی سرحدوں کے قریب واقع ممالک اسلامی دہشتگردوں کی ہٹ لسٹ پر رہینگے ( جیسا کہ حالیہ علاقائی خبر رساں ادارے افغان طالبان اور چینی حکام کی پاکستانی فوجی سربراہ کے معرفت خفیہ ملاقات کی خبریں نشر کر رہے ہیں ) اور سب سے زیاد ہ اہم کہ وہ اقوام جو پاکستان کے فیڈریشن میں زبردستی ضم کی گئی ہیں (سندھی، بلوچ، پشتون، بلاورستانی، کشمیری) ان کے وجود کا ناپید حد تک پہنچ جانا ہے کیونکہ دنیا کی تاریخ میں کوئی ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ سامراجی قوتوں نے محکوم اقوام کی ترقی اور بااختیار بنانے کیلئے کسی سی پیک جیسے منصوبے پر سرمایہ کاری کی ہو جبکہ ابھی سے ہی ان (محکوم اقوام) کو نسل کشی، جبری گمشدگی، ماورائے عدالت قتل اور فوجی آپریشن سے مجبور کیا جارہا ہے کہ قبضہ گیر (چین اور پنجاب ،پاکستان سامراج) کی اسن جبری فلاح و ترقی کو قبول کریں۔ ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ وہ کونسی وجوہات ہیں کہ آج پنجاب کو ان اقوام کی دادرسی، ترقی اور حقوق کا خیال آیا ہے جنہیں اس (پنجاب) نے ماضی کے ۶۰ سالوں کے دوران استحصال کا نشانہ بنایا ہے؟ اور وہ بھی یوں نوجوانوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں پر تشدد اور انکے قتل کرنے سے ؟؟

یہ منصوبہ ہمارے وطن، قومی مفادات اور آنے والے نسلوں کے خلاف سازش ہے اور یہ نیا سیاسی و معاشی اور فوجی نظریہ پنجاب سامراج کے گریٹر پنجاب کا اسلام اور پاکستان کے نام پر قیام، سندھ اور بلوچستان کے باشعور اوروفادار دھرتی کے سپوتوں کیلئے ناقابل برداش ہوگا۔ اس قسمت کی ستم ظریفی کو قبول کرنا ہوگا کہ پنجابی قوم بشمول دانشور، نامنہاد ترقی پسند، مذہبی گروہ، سیاسی و عسکری اسٹبلشمنٹ یکساں ہیں۔ یہ پنجاب کی بد قسمتی اور ستم ظریفی ہے کہ آج کوئی ایک بھی ایسا پنجابی نہیں جو اس عالمی سازش اور اسکی نوآبادیاتی بناوٹ کے خلاف اٹھ کھڑا ہو، جسکے بدولت محکوم اقوام ظلم و جبر اور غلامی تلے پس رہے ہیں۔
جیئے سندھ متحدا محاذ اس چین پاکستان سازشی منصوبے کے خلاف سیاسی جدوجھد کررہی ہے جس سازش سے سندھی اور بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کیا جائے گا کیونکہ اس منصوبے میں میگا سٹی پروجیکٹس زوالفقار آباد اور گوادر جیسے شہروں کی تعمیر بھی شامل ہے، جن سے مقامی لوگوں کو اپنے ہی وسائل سے محروم کرنا حاصل مقصد ہے۔ اس سازش سے ان (سندھی) کو ایک لسانی اقلیت میں تبدیل کرکے ہر صورت غیر سندھی نامنہاد جمہوری نمائندگی دے کر پاکستان کے نامنہاد جمہوری نظام میں اجنبی عوام کی کثیر تعداد کو پنجاب سامراج کے مفادات کو تحفظ دینے کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ اور مقامی سندھیوں کو اپنے قومی مفادات کی نمائندگی سے محروم کردیا جائے گا، بعداز سندھ سے یہ جمہوری اختیار بھی چھین لیا جائیگا کہ سامراجیت اور سازشوں کے خلاف جمہوری طرزِ جدوجھد کرسکیں۔ سندھ کے باشندوں کے درمیان فرقیوارانہ اور لسانی تفاوت سے نفاق کا بڑھاوہ آزادی پسند پکاروں کو قلع قمع کرنے پر اختتام پذیر ہوگا۔ چنانچہ جیئے سندھ متحدا محاذ اپنے سیاسی موقف کا واضح اظہار کرتی ہے کہ یہ منصوبہ عالمی امن کے لئے شدید خطرہ اور سنگین حالات کا باعث بنے گا۔ پاکستان مہارت سے چین کو اپنی سازش، مظلوم سندھی و بلوچ اقوام کی نسل کشی، خونریزی اور مستقل غلامی میں برابر کا شریک کرنا چاہتا ہے جس سے چین کے اخلاقی و قومی اقدار کو عالمی سطح پر شدید نقصان پہنچائے گا۔ اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کئلئے مذہبی بنیادپرست قوتوں کو قومپرست آزادی پسند تحریکوں کے خلاف استعمال کرے گا جس کے منفی اثرات سیکیولر اور لبرل جمہوری پر بھی اتنے ہی مرتب ہونگے۔ یہ سمورا خطہ مذہبی دھشتگردی کی آگ میں جلتا رہے گا۔ مظلوم سندھی، بلوچ، پشتون، بلاورستانی، سرائیکی اقوام کو اپنی ہی سرزمین سے پنجاب کی نوآبادیت کے لئے فوجی طاقت کے زریعے دکھیلا جائے گا۔ سندھی، بلوچ، پشتون اور سرائیکی اقوام کے انسانی حقوق کی پامالی سے اقوام عالم کو گمراہ رکھنے کیلئے ان علاقوں کو لسانی ، نسلی اور فرقیوارانہ دہشتگردی سمیت خانہ جنگی جیسے حالات میں جھونکا جائیگا۔ یہ خطہ پنجابی ایجنسیوں کی سامراجی بناوٹ کی وجہ سے شدید پیمانے کی تباہ کاریوں کی طرف بڑھ رہاہے۔ یہاں سب کچھ پنجاب کی اتفاقَ رائے اور مفادات کے پیش نظر عمل درآمد کیا جاتا ہے جبکہ مظلوم اقوام کے وجود اور فلاح کے لئے کوئی جگہ باقی نہیں بلکہ فقط تباہی ہی متوقع ہے۔ چنانچہ ہم (سندھی) اپنے قومی وجود اور بقا کیلئے ہر قسم کی سیاسی مزاحمتی جدوجھد کرنے کے لئے فتح یا موت تک پر عزم ہیں۔

سندھ کی سرزمین سے ہر عالمی پلیٹ فارم پر جسمم سندھ اور بلوچستان کے خلاف سرزد ہونے والے ہر ظلم، زیادتی اور سازشوں جیسا کہ سی پیک کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے اور پر عزم ہیں کہ اس کے خلاف جدوجھد کرتے رہیں کے۔
ہم تمام عالمی برادری، اقوام متحدا، یوریپی یونین، برطانیہ، جرمنی، فرانس، انڈیا اور دیگر مہذب اقوام سے اپیل کرتے ہیں کہ چائنہ کو سی پیک کے نام پر ہونے والی تباہی سرزد کرنے سے روکا جائے اور پاکستان جیسی بنیادپرست ریاست جو کہ اسلامی دہشتگردی کی کوکھ اور ناسور ہے، کی امداد سے باز رکھا جائے۔ دنیا کو مظلوم سیکیولر سندھی اور خطے کی دیگر اقوام کی قومی آزادی کی حمایت و امداد کرنی چاہیئے، جس سے بر اعظم ایشیا کو بچایا جاسکتا ہے اور یقینی طور پر ایشیا عالمی امن کے لئے روشن مینار کی طرح ہے اگر یہ مستحکم ہوگا تو ہی پوری دنیا امن اور سلامتی سے لطف اندوز ہوسکتی ہے۔