مضامیں

بلاگرز کی گمشدگی: فرعوں کے گھر میں موسی کی پیدائش: سجاد شر

اختلاف کو تمام مذاہب میں باعث رحمت اور بہتری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جس ملک میں دکھاوی کی خاطر دن رات اسلام کی خدمت کا دعوی کیا جائے وہاں اختلاف کا مطلب غداری ہی ہوگا۔ اس اسلامی ملک میں یہ ٹیگ فاطمہ جناح، حسیں سہروردی، جی ایم سید، ولی خان، خاں غفار خان، بینظیربھٹو، اچکزئی، بلوچ اور سندھیوں کے  اوپر کافی دفعا چپکایا گیا ہے۔ اس ملک میں ہر شخص مخصوص وقت میں غدار ہوتا ہے اور وقت کی تبدیلی کے ساتھ محب وطن بھی بن جاتا ہے۔

بات فوج کشی کی مخالفت کی ہو یا مارشل لا کے خلاف آواز بلند کرنے کی، کالاباغ ڈیم کے خلاف مددلل اعتراضات ہوںیا پہر پانی نا ملنے کی شکایت ہو یا معاملا گیس کی رائلٹی کا، بنگالیوں کے بعد آبادی کے لحاظ سے بڑے بھائی کا دعویدار کبھی بھی مظلوموں کا سیاسی اور سماجی بھائی نہ بن سکا لیکں بڑے بھائی نے ہر وقت یہ کوشش کی ہے کہ پسماندہ صوبوں سے آنے والی صدائوں کو کیسے طاقت کے ذریعی کچلا جائے۔

جب مشرف کی مارشلا کے باوجود چھوٹے بھائی حقوق کی بات کرتے رہے تو کسی اعلاں کے بغیر اٹھاو، مارو اورپھنک دو کی پالیسی اپنائی گئی۔  بلوچستان میں جوانوں کو نئےلانگ بوٹ اور وردی پہںاکر ایف سی کا نام دیا گیا تاکے کوئی یہ نہ کے سکے کہ بلوچستاں میں جواں پہنچے ہوئے ہیں۔ بوچستاں میں گمشدگیوں میں اضافہ ہوا تو آوازیں بلند ہوئیں لیکن، جواںوں نے اپنا من پسند مشغولہ جاری و ساری رکھا۔ پھر تو گلی کوچوں سے لاشیں بھی برآمد ہونے لگیں۔

بلوچستاں میں اٹھاو، مارو اور پھینک دو کی شاندار کامیابی کے بعد جوانوں نے یہ فخریہ پیشکش سندھ میں بھی متعارف کروائی، اور پھر سندھ میں لاتعداد نوجواں وکلا، طالب علم اور بزرگوں )ایک ۸۰ سالا بزرگ قومپرست رہنما استاد محمد راھموں بھی گم ہیں(کی گمشدگی کا سلسلا شروع ہو جو آج تک جاری ہے۔ مظفر بھٹو، راجا داہر سمیت سیکڑوں مسکراتے سندھیوں کو جوانو نے اٹھا لیا اور بعد میں ان کی مسخ شدہ لاشیں ملیں تو ان کا چہرا دیکھ کر لوگ عبرت حاصل کرنے لگے۔ ماں لیتے ہیں راجا داہر، مظفر بھٹو، افضل پنھور علحدگی پسند تھے، اور جوانو نے انہیں ثواب داریں حاصل کرنے کے لیئے شہید کردیا۔ لیکں جواں کیوں بھلادیتے ہیں کے مفتوح زمیں میں قیدیوں کے بھی انسانی حقوق ہوتے ہیں، یہ تے پھر بھی ۴۰ کی قرارداد کے تحت شامل ہونے والے تھے (شامل ہوئے یا جبری الحاق ہوا وہ الگ بحث ہے)۔

جوانو کی فخریہ پیشکش اب پنجاب میں متعارف کرادی گئی ہے۔ جس فخریہ پروڈکٹ نے بلوچ اور سندھیوں کے گھر اجاڑے تھے۔ ۲۰۱۷ کے شروع ہوتے ہی پنجاب کے چند لبرل سوچ نوجوانو کے خلاف کریک ڈائوں شروع ہوا، یہ لبرل تو تھے لیکں یہ وہ لوگ تھے جو پنجابی ہوتے ہوئے بھی ہمارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتے تھے۔ ہالینڈ کا رہنے والا اور وہاں کا شھری وقاص گورایا، لاہور سے عاصم سیعد، فاطمہ جناح وومیں یونیوسٹی کے پروفیسر سلماں حیدر اور نانکانا صاحب سے احمد رضا کو اٹھایا گیا۔

اُٹھا لئے گئے وُہ جو اُٹھا رہے تھے سوال

مگر سوال تو اب تک وھیں پڑا ھُوا ھے

پروفیسر سلماں حیدر تو جانے مانے انسانی حقوق کے کارکن ہیں جوکہ گمشدگیوں کے خلاف احتجاجوں میں متحرک نظر آتے تھے۔ عاصم سعید  پر الزام ہے کہ وہ لبرل اور سیکیولر موچی نامی فیس بک پیج کے ایڈمن تھے۔ بھینسا جو لبرل اور سیکیولر تو تھا ہی لیکں وہ سندھ اور بلوچستاں کے احساس محرومی پر بڑچڑہ کر لکھنے والوں میں سے ایک تھا، اطلاعت کے مطابق وہ بھی اٹھایا گیا ہے جو جسمانی طرح معزور بھی ہے۔ اگر واقعی پنجاب میں ایسے لبرل اور حق پرست لوگ ہیں تو فرعوں کے گھر موسی کی پرورش ہونا پرانا قصا ہے، یہ تو واقعی بابا بلے شاھ اور باہو کے دھرتی کے حقیقی موسی ہیں، جں کو پنجاب کی من مانیا نطر بھی آتی تھیں اور یہ حق کے ساتھی ان مظالمیں پر آوازبھی بلند کرتے تھے۔

اب پنجاب کے لوگوں کو سوچنا ہے کہ جو کہتے تھے بلوچستاں اور سندھ میں لاپتا افراد کی بات صرف ایک ڈراما ہے۔ اب اہل پنجاب جوانوں کی فخریہ پروڈکٹ کی زد میں ہے اور اب یہ خونخوار دیوی اپنے بچوں کو بھی نگلنے لگی ہے۔ اہل پنجاب سے شکایت ایک طرف کہ وہ ہمارے بچوں کی گمشدگیوں پر تو خاموش تھے لیکں خدارا اپنے بچوں کے لیئے تو آواز بلند کرنا آپ کا فرض ہے۔ ہم شاھ لطیف کی سندھ کے باشندے تمام شکایتوں کے باوجود سب کا بھلا چاہنے والوں میں سے ہیں۔ کیوں کہ ہمیں لطیف نے کہا ہے کہ

سائیں سدائیں کریں متھے سندھ سکار

دوست مٹھا دلدار عالم سب آباد کریں

(ای اللہ ہماری سندھ اور پورے عالم کو ہمیشہ آباد رکھنا)

ہم جتنے رنجیدہ اپنے سندھی اور بلوچ بھایوں کے لیئے ہوتے ہیں اتنا آج وقاص گورایا، عاصم سعید، احمد رضا اور پروفیسر سلماں حیدر کی گمشدگی پر بہی افزردہ ہین۔ کیوں کے ہم نے عبدالواحد آریسر، دودو مہیری کی جیل ڈائریاں، نواز خان زنئور کی ٹارچر سیل ڈائری “قیدی، تخت لاہور کا”  پڑھا ہے اور ہمیں پتا ہے کہ ٹارچر سیل مین کیسے تشدد کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں تو پرائمری کے طالم علم جانتے ہیں کے نوروز خان کے ساتھ کیا گیا قرآنی مہاھدے کا نتیجا کیا نکلا۔ اور جب جناح پاکستاں کے لیئے راضی بھی نہ تھے تب سندھ اسمیبلی سے پاکستاں کے حق قرارداد پاس کروانے والے جی ایم سید کا حشرکیا ہوا۔

ہمیں پتا ہے کہ 4×4 کے کمرے میں کیسے قید کرکے تشدد کیا جاتا ہے۔ روشنی اور ہوا کے بغیر لانگ بوٹوں کے ساتھ تشدد، گالیاں دینا اور راجا داہر کی اولاد اور کافر کے لقب و القاب دینا ان کا پسندیدہ مشغلا ہے۔ وردی پوش جوان ایسی تذلیل کرتے ہیں کے قیدی مرنے کی دعا کرتا ہے۔ لیکن یہ  کیوں بھول جاتے ہیں کربلا میں حسیں موت کو گلے لگا گیا لیکں یزید سے حسینیت ختم نے ہو سکی۔ دیبل کے مقام  پر شہید ہونے والے راجا داہر کا سر تن سے جدا تو ہوگیا مگر اسکی عظمت کبھی مر نہیں سکتی۔ ایسے ہی آج کے پنجاب کے جدید موسائوں کی گمشدگی سے حلال کو حرام، برے کو اچھے، نقصان کو فائدے اور غلامی کو آزادی میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔