خبریں, قومی خبریں

کراچی میں آپریشن کیا گیا تو ہم اردو آبادی کا ساتھ دیںگے۔ شفیع محمد برفت کا پیغام

Karachi-Map

جسمم چیئرمیں شفیع محمد برفت نے اردو اور سندھی بولنے والے سندھیوں کے نام اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ کیسی بھی قوم اور قوم کے کیسی نسلی حصی کی جارحیت کا جواز معمولی اسباب، مشکوک واقعات کو بنانا چوٹھی سوچ اور کوتاہ نظری کے برابر ہے۔

جسمم چیئرمیں نے مزید کہا کہ تاریخ کے مطابق سندھ ایک جدا وطن رہی ہے اور سندھ وطن میں رہنے والے ہم سب (سندھی، سرائکی، ڈاٹکی، بلوچ، کچھی، مارواڑی، اردو، لاسی) بولنے والے سندھی قوم کا حصہ ہیں۔ ہمیں سندھ کے ہر لسانی، نسلی، مذہبی، طبقاتی، مسلک اور حصے کی ایک جان ایک جسم بن کر تاریخی وطن کی مفادات، یکجھتی کی خاطر اور قومی تکمیل کےدائمی ایجنڈا کی وطنی پسمنظر میں محسوس کرتے ہوئے ہر بیرونی یلغار اور ظلم کے خلاف ایک ہوکے سوچنا اور عمل کرنا ہوگا۔

شفیع برفت نے اردو اور سندھی بولنے والے سندھی سیاسی کارکناں، دانشوروں، صحافیوں اور سوشل میڈیا کے کارکناں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ سندھ وطن کی سیاسی اور جاگرافیائی وحدت ہمارے اصولوں، سوچ، کا پہلا بنیاداور شرط ہونا چاہیئے۔ہم میں سے کوئی بھی اگر اس دائرے سے باہر نکل کر سوچتا ہے اسے تاریخ گنہگار مانے گی اور تاریخ ان پر اپنے بیرحمانہ فیصلے عائد کردیگی۔

شفیع برفت نے سندھ کے باشندوں سے مخاطب ہوتے کہا کہ سندھ ہماری مشترکہ ماں ہے، ہم اترادی، لاڑی ہوں، تھری، کوہستانی ہوں، ہم میں سے کو آریا، دراوڑ یا بلوچ ہو، ہم سندھی بولیں یا اردو، سرائکی یا ڈاٹکی سندھ ہمارا وطن اور ہماری ماں ہے اور ہمارا جینا مرنا سندھ کے ساتھ ہے اور ہونا چاہیئے۔ ہماری دوستی اور دشمنی کا بنیاد بھی سندھ وطن ہونا چاہیئے۔

جسمم چیئرمیں نے مزید کہا کہ یہ غیرفطری ریاست سندھ کی قومی وحدت کے خلاف بھیانک سازشوں پر عمل کرتے ہوئے سندھ کی سیاسی قومی وحدت کی لسانی تفریق ، مذہبی مسلکوں، نسلی بنیادوں کے تحت شھری اور دیہاتی ذہنی نفسیات کو گمراہ کرکے تقسیم کرنے کی سازشیں کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں سندھ کے باشعور اور فرزنداں وطن پر لازمی قومی فرض ہے کہ وہ دشمں کی “تقسیم کرو اور غلام بناؤ” والی سازش کو ناکام بنانا ہوگا۔

Shafi Burfat
جسمم چیئرمیں شفیع محمد برفت

کراچی جاری ریاستی بربریت کے متعلق جسمم چیئرمیں کا کہنا تھا کہ ریاستی سفاکی کراچی میں ہو یا سندھ کے کیسی اور شھر میں، ہم سب کو سندیت اور سندھ کے لیئے ایسے سازشوں کو سمجھنا ہوگا اور اس کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگا۔ ریاست اگر کیسی من گہڑت سازش کے تحت اگر کراچی میں ہمارے سندھی بہائی بہنوں کے خلاف آپریشں کرے یا ان کا خوں بہائے تو ہم ایسی جارحیت کو سندھ کے اوپر حملا تصور کریںگے اور یک آواز ہوکر اردو بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہوجائیں گے۔

جسمم چیئرمیں نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کے جب عرب سامراج نے راجا داہر اور سندھ کی دیبل پر حملا کیا تھا تو اس وقت عربوں نے راجا داہر کے خلاف بھی ایسی من گھڑت کہانیانوں کی سازش شروع کی تھی تب “چنا” لوگوں نے ایسے جواز پہلانا شروع کیئے تھے اور آج وہی صورتحال اور سوشل میڈیا پر کچھ ناسمجھ لوگ بھی “چنا” کی طرح کام کررہے ہیں اور وطں کے خلاف بیرونی سامراج کی سازشوں کا حصا بن رہے ہیں۔

جسمم چیئرمیں نے کہا کہ اگر آج اردو آبادی پر من گھڑت الزامات کا سلسلا جاری ہے تو ہم ایسے الزامات کو سمجھنے کے بغیر اس بات پر غور کریں کے ہم سب سندھی قوم کا حصہ ہیں اور ساری ریاستی سازشوں کا مقابلا کریںگے۔ سامراج ایم آر ڈی کے بعد اب کراچی کو خوں میں نہلانے کی سازش کر رہا ہے اس کے بعد اس سارے سلسلے کو سندھ کے مزید شہروں تک پھلایا جائے گا۔

ریاست کی سازش ہے کہ ہم کراچی پر آپریشن کریں اور پوری سندھ خاموش رہے اور جب اندونے سندھ میں آپریشن کیا جائے تو پوری کراچی خاموش رہے لیکں ہمیں ایسی سازشوں کا جواب دینا ہوگا اور ہم سارے سندھی اور اردو بولنے والوں کو اکتھا ہونا پڑے گا۔

جسمم چیئرمیں نے کہا کہ آج چودری نثار نے واضع کہا ہے کہ انہیں کراچی بس حملے کا پہلے سے پتا تھا! تو ایسے حملے کو روکا کیوں نہیں گیا؟ اصل حقیقت ہے کہ یہ حملا خود ریاستی خفیا اداروں کی کروائی تھی۔ ریاستی ادارے کیسی بھی تنظیم میں اپنے دو آدمی بٹھا کر ایسی کاروائیاں کرتی ہیں اور اس کی آڑ میں اپنے ناپسندیدہ تنظیموں اور سیاسی کارکناں کے خلاف کاروائیاں کرتی ہیں۔ جیسے 83 – 86 دوراں ایم آر ڈی کی تحریک کو دنیا میں بدنام کرنے کے لیئے کہا تھا کے ہم تو سندھیوں کو نہیں پر سندھ میں موجود ڈاکوئوں کو مار رہے ہیں! کیا اگر ریاست آج ایسی من گھڑٹ سازشیں کرکے کراچی آپریشن میں اردو آبادی کو نشانہ بنائے تو آپ خاموش رہیں گے؟ کیا آپ پھر ایم آر ڈی کے قتل عام کو جائز سمجیں گے؟۔

جسمم چیئرمیں نے کہا ہماری قومپرستی نسلی نہیں بلکے وطنی ہے اور وطن کی سیاسی، معاشی، جاگرافیائی اصولوں اور فکری مقاصد پر مشتمل ہے۔ ہم ہر قسم کی نسل پرستی کی مذمت کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں یہ وقت ایک دوسرے کو بھلا برا کہنے کے بجاءِ ایک دوسرے کے ساتھے مل کر کھڑا ہونے  کا ہے۔

جسمم چیئرمیں نے کہا کہ پنجاب اور چیں مل کے سندھ اور بلوچستاں کہ وسائل کو مزید تیزی کے ساتھ لوٹنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اور ایسے منصوبوں کے خلاف بلوچ اور سندھی اپنا آواز بلند کر رہے ہیں۔ ایک طرف بلوچستاں میں بلوچوں کے خلاف فوجی آپریشن میں تیزی آئی ہے تو دوسری جانب امن امان کے نام پر سندھ میں جسمم اور ایم کو ایم کے خلاف آپریشں کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ کیوں کے کراچی میں ایم کیو ایم سیاسی طرح پرو اسٹیٹ تنظیموں کو کراچی میں آنے نہیں دے رہی کیوں کے ایم کیو ایم ایک مصبوط سیاسی جماعت ہے اور دوسری طرف سندھ کے دوسرے شہروں میں جسمم ریاست کے لیئے ایک چلینج بنی ہوئی ہے۔ اس لیئے اس وقت ہم سب کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہئے۔

جسمم چیرمیں نے آخر میں کہا کہ اگر کراچی میں اردو بولنے والوں کے خلاف آپریشں ہوا یا ان کے خونریزی کی گئی تو جسمم اپنے اردو بولنے والے بھائی بہنوں کی بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کرتی ہے۔