مزید خبریں

ذاکر مجید بلوچ کی رہائی کے لیئے ٹوئیٹر پر بلوچ کارکناں کا احتجاج جاری

ذاکر مجید بلوچ
ذاکر مجید بلوچ

انڈس ٹریبوں (آن لائیں) 8 جوں 2009 کو پاکستاں کی خفیا اداروں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشں (آزاد) کے رہنما تاحال بازیاب نہیں ہو سکے۔

جوں 8، 2009ع کو ذاکر مجید، وحید اور باسط کے ھمراہ اپنے دوست وحید کے گھر جاتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا ہوئے تھے۔ وحید کا گھر مستونگ میں واقع ہے۔ اس کے بعد سے آج تک ذاکر مجید کی کوئی خبر نہیں۔

ذاکر مجید کی بہن فرزانہ مجید 2009 سے ذاکر کی رہائی کے لیئے مسلسل جدوجہد میں مصروف رہی ہیں، لیکں باوجود اس کے آج تک کہیں سے بھی اسے انصاف نہیں مل سکا۔

ملکی و بیرونی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ذاکر مجید کے بازیابی کے لیئے کیئی مرتبا آواز بلند کی، لیکں اسا لگتا ہے ان ساری تنظیموں سے ذاکر کو قید کرنے والے ادارے زیادہ مضبوط ہیں اور ان کی آوازیں آج تک کوئی نتیجا سامنے نہیں لا سکیں۔

ذاکر مجید کے لیئے بلوچ کارکناں بھی 2009 سے جدوجہد کر رہیں۔ آج بھی بلوچ آن لائیں کارکناں نے ٹوئیٹر پر ذاکر مجید کی بازیابی کے لیئے مہم کا آغاز کیا ہے۔

Follow #FreeZakirMajeed for more tweets.  

بیباگر بلوچ نے مہم کا آغاز کرتے ہوئے ہندوستاں کے سوشل میڈیا کارکناں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس مہم میں ان کا ساتھ دیں

سلام صابر ذاکر مجید کی گمشدگی کے متعلق لکھتے ہیں کہ

میر بلاچ نامی بلوچ کارکں کے مطابق اگر ذاکر مجید کیسی جرم میں ملوث ہیں تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔

آج ذاکر میجد کی گمشدگی کو 6 سال مکمل ہو رہے ہیں۔